نماز ووضو كاصحيح طريقه مع ترجمه

In بلا عنوان

نماز کا صحیح طریقہ
نماز اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، اوریہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل ہے ۔ یہی وہ عظیم عبادت ہے ،جس میں بندہ اپنے رب سے سرگوشی ومناجات کی لذت حاصل کرتا ہے۔اور یہی وہ عمل ہے جس سے قیامت کے دن حساب وکتاب کا آغازکیا جائے گا۔تو اس عمل کی اہمیت کے پیش نظر اسے اچھی طرح سیکھنا اوراسے مسنون طریقہ سے ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔
وضو کا طریقہ
وضوکے لیے درج ذیل چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھیں:
(۱)بسم اللہ کہتے ہوئے وضو شروع کریں۔
(۲) پھر دونوں ہا تھ پہنچو ں تک تین بار دھوئیں۔
(۳)ہا تھوں کو دھوتے وقت ہا تھوں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں۔
(۴)پھر ایک چلو لے کر آدھے سے کلی کریں اور آدھا ناک میں ڈالیں اور ناک کو بائیں ہاتھ سے جھا ڑیں۔ یہ عمل تین دفعہ کریں۔
(۵)پھر تین بار منہ دھوئیں ۔
(۶)پھر ایک چلو لے کر اسے ٹھوڑی کے نیچے داخل کر کے داڑھی کا خلال کریں۔
(۷)پھر دایاں ہا تھ کہنی تک تین بار دھو ئیں پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھوئیں۔
(۸)پھر سر کا مسح کریں۔ دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصہ سے شروع کر کے گدی تک پیچھے لے جا ئیں۔
(۹) پھر پیچھے سے آگے اسی جگہ لے آئیں جہا ں سے مسح شروع کیا تھا۔
(۰۱) سر کامسح ایک دفعہ کریں۔
(۱۱) پھرکانوں کا مسح اس طرح کریں کہ شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈال کرکانوں کے اندرکی طرف لو تک گھمائیں اورپشت پر انگوٹھوں کے ساتھ مسح کریں۔
(۲۱) پھر دایاں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئیں اور بایاں پاؤں بھی ٹخنوں تک تین بار دھوئیں۔
(۳۱) جب وضو کریں تو ہا تھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کریں۔
وضو کے بعد کی دعائیں
پہلی دعا: (أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ) ترجمہ ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ،وہ اکیلا ہے ،اس کا کوئی شر یک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘۔(صحیح مسلم )
دوسری دعا: (سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ)۔ترجمہ ’’اے اللہ تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔‘‘(سنن نسائی)
نما ز کا طریقہ
* نماز سے پہلے نیت کا ہونا ضروری ہے۔نیت دل کا فعل ہے زبان سے نیت کرنا ثابت نہیں ۔
* قبلہ کی جانب منہ کر کے اللہ اکبر کہتے ہوئے رفع الیدین کریں۔یعنی دونوں ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں کی ’’لو‘‘ تک اٹھائیں۔
* ہا تھ اٹھاتے وقت انگلیاں نارمل طریقے پر کھلی رکھیں ۔انگلیوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ کر یں اور نہ ہی انگلیاں ملائیں۔
* پھر دایاں ہاتھ بائیں ہا تھ پر رکھ کر سینے پر باندھ لیں۔
* سینے پر ہا تھ باندھ کر یہ دعا پڑھیں۔
دعائے استفتاح
پہلی دعا: (اللَّہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِی وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّہُمَّ نَقِّنِی مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الأَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّہُمَّ اغْسِلْ خَطَایَایَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ) ۔ ترجمہ:’’اے اللہ !میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کیدرمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ ،مجھے میرے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ ،میرے گناہوں کو برف ،پانی اور اولوں سے دھودے‘‘۔(متفق علیہ)
دوسری دعا:(سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ و تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلاَ إِلَہَ غَیْرُکَ)۔ ترجمہ ’’میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے اللہ ،تیری حمد کے ساتھ اور بہت بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘‘۔( مسند أحمد بن حنبل )
*’’ تعوّذ ‘‘ اعوذ باللہ پڑھیں
(أَعُوذُ بِاللَّہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثہِ ) ۔ ترجمہ:’’میں سننے والے، جاننے والے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں مردود شیطان سے، اس کی پھونکوں سے،اس کی تھوک سے اور اس کے چو ک سے( أبوداؤد)
*بسم اللہ بڑھنے کے بعد سورت فاتحہ پڑھیں
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَoالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ oمٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ oاِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ oصِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ ) آمِینَ۔ ترجمہ:’’اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو رب ہے سب جہانوں کا۔جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ مالک ہے جزا وسزا کے دن کا ۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سیمدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ،ان کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا، ان کی راہ پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان کی جو راہ بھول گئے ‘‘۔ (سورت فاتحہ : آیت نمبر 1 تا 7 )
* اس کے بعد سورت اخلاص پڑھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم (قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌo اَللّٰہُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ o وَلَمْ یَکُنْ لَّہ کُفُوًا اَحَدٌ ) ۔ ترجمہ:’’آپ کہے دیجئے کہ وہ اللہ تعالی ایک ’’ہی‘‘ ہے اللہ تعالی بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔(سورت اخلاص : آیت نمبر: 1 تا 4 )
نوٹ: اس سورت کے علاوہ کوئی دوسری سورت بھی پڑھ سکتے ہیں۔
* ’’رفع الیدین ‘‘ دونوں ہا تھوں کا اٹھا نا ۔ درج ذیل ان جگہوں کا ذکر ہے جن پر نبی مکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا۔
(۱) شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت (۲)رکوع سے قبل (۳)رکوع کے بعد (۴)تیسری رکعت کی ابتدامیں۔
رکوع کرنے کا طریقہ
* رکوع میں پیٹھ بالکل سید ھی رکھیں اور سر کو پیٹھ کے برابر یعنی سر نہ تو اونچا ہو اور نہ نیچا اور دونوں ہا تھوں کی ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھیں۔
* ہا تھوں کی انگلیاں کشادہ رکھیں۔
* دونوں ہا تھوں یعنی بازوؤں کو تان کر رکھیں ذرا خم نہ ہو انگلیوں کے درمیان فاصلہ ہو اور گھٹنوں کومضبو طی سے تھامیں۔
رکوع کی دعائیں
پہلی دعا: (سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی)۔ ترجمہ: ’’ اے اللہ ،اے ہمارے پروردگار ،تو’’ ہرعیب سے ‘‘پا ک ہے اپنی تعریف کے ساتھ ،اے اللہ ،مجھے بخش دے۔ ‘‘(متفق علیہ)
دوسری دعا: (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ)ترجمہ: ’’ میرا پروردگار پاک ہے ’’ہرعیب سے‘‘ سب سے بلند ہے۔ ‘‘ (مسلم)
قو مے کا طریقہ
رکوع سے سر اٹھا تے ہوئے رفع الیدین کرتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو جائیں۔اور یہ دعا پڑھیں۔
(سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ)۔ ترجمہ : ’’اللہ تعالی نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ۔اے ہمارے رب ،تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں ۔ بہت زیادہ اورپاکیزہ تعریف جس میں برکت کی گئی ہے‘‘۔ (بخاری)
سجدہ کرنے کا طریقہ
* سجدہ کرتے وقت اپنے دونوں ہا تھ گھٹنوں سے پہلے رکھیں۔
* سجدے میں دونوں ہا تھوں کو کندھوں کے برابر رکھیں۔
* سجدے میں دونوں ہا تھوں کو کا نوں کے برا بر رکھنا بھی درست ہے۔
* سجدے میں ہا تھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملا کر رکھیں اور انہیں قبلہ رخ رکھیں۔
* سجدے میں دونوں ہتھیلیاں اور دونوں گھٹنے خوب زمین پر ٹکائیں ۔
* پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلے کی طرف مڑے ہوئے رکھیں،اور دونوں قدم بھی کھڑے رکھیں
* ایڑیوں کو ملا کر رکھیں۔
* سجدے میں سینہ پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی رکھیں پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھیں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھیں۔
* سجدے میں کہنیوں کو نہ تو زمین پر ٹکائیں اور نہ پہلوؤں سے ملائیں ۔بلکہ زمین سے اونچی پہلوؤں سے الگ کشادہ رکھیں۔
سجدے کی دعائیں
پہلی دعا: (سُبْحَانَ رَبِّیَ الأَعْلَی)۔ ترجمہ:’’میرا پروردگار ’’ہر عیب سے‘‘پاک ہے، سب سے بلند ہے۔ ‘‘(مسلم)
دوسری دعا:(سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی )۔ ترجمہ : ’’اے ہمارے اللہ، اے ہمارے پروردگار تو ہرعیب سے پاک ہے، ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں ،اے اللہ ،مجھے بخش دے ‘‘۔(متفق علیہ)
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ
* دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور اپنا بایاں پاؤں بچھاکر پھر اس پر بیٹھنا اوردایاں پاؤں کھڑا رکھیں اس طرح کہ انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔
*یادونوں پاؤں کو کھڑا کر کے ایڑیوں پربھی بیٹھ سکتے ہیں۔(مسلم )
دو سجدوں کی ’’ جلسے ‘‘ کی دعائیں
پہلی دعا: (اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَ عَافِنِی وَ اہْدِ نِی وَارْزُقْنِی )۔ ترجمہ: ’’ اے اللہ ،مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے ،اور مجھے ھدایت دے ،اورمجھے رزق دے۔ ‘‘(ترمذی)
دوسری دعا:( رَبِّ اغْفِرْ لِی رَبِّ اغْفِرْ لی ) ۔ ترجمہ:’’اے میرے رب ، مجھے بخش دے ،اے میرے رب ، مجھے بخش دے‘‘۔(سنن ابوداؤد)
جلسہ استراحت
*پہلے سجدے کی طرح اطمینان کے ساتھ دوسراسجدہ کریں ۔ پھر دوسرے سجدے کے بعد اطمینان سے بیٹھ جائیں،اوراللہ اکبر کہہ کر ’’جلسہ استراحت کیلئے ‘‘اس طرح بیٹھ جائیں جیسے آپ پہلے سجدہ میں بیٹھے تھے۔ (بخاری)
* جلسہ استراحت سے اٹھتے وقت دونوں ہا تھ زمین پر ٹیک کر اٹھیں
* ’’ دوسری رکعت‘‘میں پہلی رکعت کی طرح سورت فاتحہ اور پھر کوئی سورت پڑھیں۔لیکن دعاء استفتاح نہ پڑھیں۔
تشہد کے آداب
* اس کو قعدہ اولی بھی کہتے ہیں دوسری رکعت کے بعد بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ کراپنے دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے یاران پراور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے یا ران پر رکھیں، اور یہ دعا پڑھیں:
دعا:(التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا ، وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ )۔ ترجمہ: ’’ زبان کی تمام عبادتیں، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، سلام ہو تجھ پر اینبی، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘‘۔(متفق علیہ)
رفع سبابہ
تشہد میں بیٹھنے سے لے کر سلام تک انگلی سے اشارہ کریں۔جب تشہد کیلئے بیٹھیں اور دائیں ہاتھ کی شکل اس طرح بنائیں کہ شہادت کی انگلی کھڑی ہو اورانگوٹھا درمیانی انگلی سے ملا کر حلقہ بنائیں ۔یا دائیں ہاتھ کی تمام انگلیاں بند کر لیں اور شہادت کی انگلی اٹھا لیں اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کینیچے رکھیں ۔یاد رہے ! کہ صرف (أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ )پر انگلی اٹھانا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
آخری قعدہ تشہد
* آخری تشہد میں اپنا بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے سے باہرنکالیں اور اپنی بائیں جانب کے کو لہے پر بیٹھیں پھر تشہد ،درودابراہیمی اور دعا پڑھ کر سلام پھیر یں۔(بخاری)
*آخری تشہد میں دایاں پاؤں بچھا کر رکھنا بھی جائز ہے ۔(مسلم )
تشہد
دعا:(التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا ، وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ )۔ ترجمہ: ’’ زبان کی تمام عبادتیں، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، سلام ہو تجھ پر اینبی، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘‘۔(متفق علیہ)
اس کے بعد درود ابراہیمی پڑھیں
درود ابراہیمی
(اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیدٌ اللَّہُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِید)۔ ترجمہ ’’ اے اللہ، صلوۃ بھیج محمﷺد پر اور محمﷺد کی آل پر ، جس طرح تو نے صلوۃ بھیجی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، یقینًا تو تعریف بزرگی والا ہے۔ اے اللہ، برکت نازل فرمامحمد پر اور محمد کی آل پر کہ جس طرح تو نے برکت نازل کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، یقینًا تو تعریف بزرگی والاہے ‘‘۔(بخاری)
اس کے بعد تشہد کے دعائیں پڑھیں
تشہد کے دعائیں
پہلی دعا: (اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ) ۔ ترجمہ ’’اے اللہ ،میں تیری پناہ پکڑتا ہوں قبرکے عذاب سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی و موت کے فتنہ سے اور گناہ وقرض سیتیری پناہ مانگتا ہوں۔ ‘‘(متفق علیہ)
دوسری دعا:( اللَّہُمَّ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی ظُلْمًا کَثِیرًا ، وَلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِی مَغْفِرَۃً مِنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِی إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ)۔ ترجمہ : ’’ اے اللہ !میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا، پس مجھے اپنی خاص مغفرت سے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، بلا شبہ توہی بخشنے والا، بے حد رحم کرنے والاہے۔ ‘‘(متفق علیہ)

سلام
مندرجہ بالا تشہد کے دعائیں پڑھنے کے بعد پہلے دائیں طرف منہ پھریں ، اور پھر بائیں طرف منہ پھیر کر یہ الفاط کہیں: ( السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ )۔ ترجمہ :’’ تم پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہوتم پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو‘‘۔
نماز کے بعداذکار
* ایک مرتبہ ( اللّہُ اَکْبَرْ ) پڑھیں۔ ترجمہ ’’ اے اللہ ! تو سب سے بڑا ہے‘‘۔
* تین مرتبہ :(اَسْتَغْفِرُ اللَّہَ)پڑھیں۔ ترجمہ:’’ اے اللہ تو معاف کردے ‘‘۔
* ( اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یاذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ)۔ ترجمہ : ’’اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے، تو بڑی برکت والاہے‘‘۔(مسلم)
* (لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ) ۔ ترجمہ: ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ، جسے تو دیاس سے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسیکوئی دینے والا نہیں اور کسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے فائدہ نہیں پہنچا سکتی‘‘۔ (بخاری)
* ( لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شیء قَدِیرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ)۔ ترجمہ: ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ نہ بچنے کی طا قت ہے نہ کچھ کرنے کی قوت مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے، اسی کیلیے نعمت ہے اور اسی کے لیے فضل اور اسی کے لیے اچھی تعریف ہے ،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،ہم اپنی بندگی اسی کیلیے خا ص کرنے والے ہیں ، خواہ کافروں کو براہی لگے‘‘۔( صحیح مسلم )
* (سُبْحَانَ اللہ)33بار( الْحَمْدُ لِلَّہِ) 33بار( اللَّہُ أَکْبَرُ) 33باراور پھر ایک مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
( لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شیء قَدِیرٌ)۔ ترجمہ: ’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے‘‘۔ (بخاری)
*آیۃ الکرسی ایک بار پڑھیں
(اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُواَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ لَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْض مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَُوْدُہ حِفْظُہُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ )۔ ترجمہ: ’’اللہ ،وہ معبود برحق ہے کہ ،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ زندہ اور ہمیشہ قا ئم رہنے والا ہے ، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، جو کچھ آسما نوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے ?کسی کی ? سفارش کر سکے ؟ جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو چکا ہے اسے جانتا ہے اور وہ ?لوگ? اس کے علم میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے ?اس قدر معلوم کرا دیتا ہے ? ، اس کی کرسی آسمانوں اور ز مین پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں، وہ بڑا عالی اور جلیل القدر ہے۔( حوالہ )
*سورت الفلق، سورت الناس اور سورۃ الإخلاص ہر نماز کے بعد ایک بارپڑھیں،اور صبح و شام کے بعد تین مرتبہ پڑھیں:
سورۃ الإخلاص:(قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ o اَللّٰہُ الصَّمَدo لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ o وَلَمْ یَکُنْ لَّہ کُفُوًا اَحَدٌ )۔ ترجمہ : ’’آپ کہے دیجئے کہ وہ اللہ تعالی ایک ،ہی،ہے اللہ تعالی بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے‘‘۔ ( حوالہ )
سورۃ الفلق:(قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِo مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَo وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ )۔ ترجمہ : ’’آپ کہہ دیجئے ،کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے ۔ اور گرہ ،لگا کر ان،میں پھو نکنے والیوں کے شر سے بھی اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے‘‘۔( حوالہ )

سورۃ الناس:(قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰہِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ )۔ ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجئے، کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی اور لوگو ں کے معبود کی ،پناہ، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے ۔جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے‘‘۔ (حوالہ)
صبح وشام کے اذکار
* ( أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ(أَمْسَیْنَا وَأَمْسَی )الْمُلْکُ لِلَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شیء قَدِیرٌ رَبِّ أَسْأَلُکَ خَیْرَ مَا فِی ہَذَا الیَومِ ( ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ )وَخَیْرَ مَا بَعْدَہ (ہَا) وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِی ہَذَا الیَومِ (ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ) وَشَرِّ مَا بَعْدَہ (ہَا ) رَبِّ أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَسُوْ ءِ الْکِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابٍ فی النَّارِ وَعَذَابٍ فی الْقَبْرِ)۔ ترجمہ:’’ہم نے صبح کی اور کائنات نے صبح کی اللہ کے لیے اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے میرے ربٍٍ اس صبح میں جو خیر ہے اور جو اس کے بعد میں خیر ہے میں تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں اور اس صبح کے شر سے اور اس کے بعد والیدن کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ اے میرے رب میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں ‘‘۔(مسلم)
* ( اللَّہُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ النُّشُورُ )۔ ترجمہ: ’’اے اللہ تیرے ?نام کے ? ساتھ ہم نے صبح کی اور تیرے ،نام کے ،ساتھ ہم نے شام کی اور تیرے ،نام کے،ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مریں گے اور تیری طرف ہی اٹھ کر جانا ہے۔ (ترمذی)
شام کے وقت کہے:( اللَّہُمَّ بِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ المصیر )۔ ترجمہ: ’’اے اللہ تیرے نام کے ساتھ ہم نے شام کی اور تیرے نام کے ساتھ ہم نے صبح کی اور تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مریں گے اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے۔(ترمذی)
* (اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِی وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِی اغْفِرْ لِی فَإِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ)۔ ترجمہ: ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدر طاقت رکھتا ہوں میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا‘‘۔( صحیح بخاری )
* (اللَّہُمَّ إنی أَصْبَحْتُ(أَمْسَیْتُ )أُشْہِدُکَ وَأُشْہِدُ حَمَلَۃَ عَرْشِکَ وَمَلاَءِکَتَکَ وَجَمِیعَ خَلْقِکَ أَنَّکَ أَنْتَ اللَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ) ۔ ترجمہ: ’’اے اللہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والوں کو، تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور بیشک محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ‘‘۔( صحیح بخاری)
*یہ دعا چار مرتبہ صبح و شام پڑھیں
(اللَّہُمَّ ما أَصْبَحَ( أَمْسَی ) بِی مِن نِعمَۃٍ أَو بِأَحَدٍ مِن خَلقِکَ فَمِنکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ فَلَکَ الحَمْدُ وَلَکَ الشُّکرُ )۔ ترجمہ:’’اے اللہ مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جس نعمت نے بھی صبح کی ہے وہ صرف تیری طرف سے ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں پس تیرے ہی لئے حمد ہے اور تیرے ہی لئے شکرہے ‘‘۔ ( سنن ابی داؤد )
* (اللَّہُمَّ عَافِنیِ فِی بَدَنِی اللہُمَّ عَافِنیِ فِی سَمعِی اللَّہُمَّ عَافِنیِ فِی بَصَرِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ)۔ ترجمہ: ’’اے اللہ! مجھے میرے جسم میں عافیت دے اے اللہ مجھے میرے کانوں میں عافیت دے اے اللہ مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘‘۔( صحیح بخاری )
* (اللَّہُمَّ إنی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ اللَّہُمَّ إنی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ) ۔ ترجمہ: ’’اے اللہ میں کفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں‘‘ ۔(بخاری و ابو داؤد)
* یہ دعا صبح وشام تین مرتبہ پڑھیں
(حسبی اللَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیم )۔ ترجمہ : ’’مجھے اللہ ہی کافی ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے ‘‘ ۔ (ابوداؤد)
*سا ت مرتبہ صبح و شام یہ پڑھیں
( اللَّہُمَّ إنی أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ اللَّہُمَّ إنی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فی دِینِی وَدُنیَایَ وأَہْلِی ومَالِی اللَّہُمَّ اسْتُرْ عَورَاتِی وَآمِنْ رَوْعَاتِی اللَّہُمَّ احْفَظْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَّمِینِی وَعَنْ شِمَالِی وَمِنْ فَوْقِی وَأَعُوذُ بِعَظْمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی )۔ ترجمہ : ’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں اے اللہ! میں اپنے دین اپنی دنیا اپنے اہل اور اپنے مال میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں اے اللہ میری پردہ والی چیزوں پر پردہ ڈال دے اور میری گبھراہٹوں کو امن میں رکھ۔ اے اللہ میرے سامنے سے میرے پیچھے سے میری دائیں طرف سے اور میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر اور اس بات سے میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ اچانک اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں ‘‘۔(ابوداؤد)
*(اللَّہُمَّ عَالِمَ الغَیبِ وَالشَّہَادَۃِ فَاطِرَ السَّماوَاتِ وَالأَرضِ وَرَبَّ کُلِّ شَیءٍ وَمَلِیْکَہُ اَشْہَدُ اَنْ لَّا إِلَہَ اِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَشَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ)۔ ترجمہ : ’’اے اللہ اے غیب اور حاضر کو جاننے والے ، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ہر چیز کے پروردگار اور مالک۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے ‘‘۔ (ابوداؤد وترمذی)
* (بِسْمِ اللَّہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیءٌ فِی الأَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ)۔ ترجمہ: ’’اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا جاننے والا ہے‘‘۔ ( سنن ترمذی )
*یہ تین مرتبہ پڑھیں (رَضِیتُ بِاللَّہِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا )۔ ترجمہ : ’’میں اللہ پر راضی ہوں اس کے رب ہونے میں اور اسلام پر دین ہونے میں اور محمد پر نبی ہونے میں‘‘۔(ترمذی)
* یہ کلمات بھی تین مرتبہ دہرائیں(سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ عَدَدَ خَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ وَزِنَۃَ عَرْشِہِ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ ) ۔ ترجمہ: ’’اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے ۔ اپنی مخلوق کی گنتی کے برابر اور اپنے نفس کی رضا کے برابر اور اپنے عرش کے وزن کے برابر ‘‘۔
* یہ روزانہ ایک سو مرتبہ پڑھیں(لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہْوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )۔ ترجمہ : ’’اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادرہے‘‘۔(مسلم)
*(أَصْبَحْنَا ( أَمسَینَا)عَلَی فِطرَۃِ الإِسلَامِ وَکَلِمَۃِ الإِخلَاصِ وَعَلَی دِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ و سلَّم وَعَلَی مِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ المُشرِکِینَ)۔ ترجمہ : ’’ہم نے فطرت اسلام اور کلمہ اخلاص اور اپنے نبی محمد کے دین اور اپنے باپ ابراہیم حنیف مسلم کی ملت پر صبح کی اور وہ مشرکوں سے نہیں تھا‘‘۔ (احمد)

يمكنك أيضا قراءة هذه المواضيع!

شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھنے کے بارے میں حدیث من گھڑت ہے.

154397: شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھنے کے بارے میں حدیث من گھڑت ہے مجھے ایمیل کے

أكمل القراءة …

سورۃ الدخان میں ذکر کی گئي رات سے کیا مقصود ہے؟کیا یہ شعبان والی رات ہی ہے،یا لیلۃ القدر؟

11722: سورۃ الدخان میں ذکر کی گئي رات سے کیا مقصود ہے ؟ کیا یہ شعبان والی رات ہی

أكمل القراءة …

بدعتِ “شب براءت”[شعبانیہ]

154850: بدعتِ "شب براءت " شبِ براءت کیا ہے؟ جنوبی ایشیا کے اکثر مسلمان اس رات کو جشن مناتے ہیں۔ Published

أكمل القراءة …

أضف تعليق:

بريدك الإلكتروني لن يتم نشره

قائمة الموبايل